سنن النسائي حدیث نمبر: 3919
Sunan an-Nasa'i 3919
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
2: بَابُ : ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". وَاخْتُلِفَ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِيهِ.
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے زمین کرائے پر دینے کے سلسلے میں پوچھا تو وہ بولے : رافع بن خدیج نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ اس حدیث کی روایت میں سعید بن مسیب پر اختلاف واقع ہوا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3919]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: خود اس زمین سے پیدا ہونے والے غلہ کے بدلے کرایہ اٹھانے سے منع فرمایا، کیونکہ خود رافع رضی اللہ عنہ نے سونا چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کا فتویٰ دیا ہے۔ نیز مرفوعاً بھی روایت کی ہے (دیکھئیے حدیث رقم ۳۹۲۱، و ۳۹۲۹)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)