سنن النسائي حدیث نمبر: 3892
Sunan an-Nasa'i 3892
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
1: بَابُ : الثَّالِثُ مِنَ الشُّرُوطِ فِيهِ الْمُزَارَعَةُ وَالْوَثَائِقُ
باب: (سابقہ دو شرط قسم اور نذر کے ذکر کے بعد) تیسری شرط کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: عَبْدٌ أُؤَاجِرُهُ سَنَةً بِطَعَامِهِ، وَسَنَةً أُخْرَى بِكَذَا وَكَذَا. قَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ وَيُجْزِئُهُ اشْتِرَاطُكَ حِينَ تُؤَاجِرُهُ أَيَّامًا أَوْ آجَرْتَهُ وَقَدْ مَضَى بَعْضُ السَّنَةِ"، قَالَ: إِنَّكَ لَا تُحَاسِبُنِي لِمَا مَضَى.
ابن جریج کہتے ہںي کہ میں نے عطا سے کہا : اگر میں ایک غلام کو ایک سال کھانے کے بدلے اور ایک سال تک اتنے اور اتنے مال کے بدلے نوکر رکھوں ( تو کیا حکم ہے ) ؟ انہوں نے کہا : کوئی حرج نہیں ، اور جب تم اسے اجرت ( مزدوری ) پر رکھو تو اس کے لیے تمہارا اس وقت اتنا کہنا کافی ہے کہ اتنے دنوں تک اجرت ( مزدوری ) پر رکھوں گا ۔ ( ابن جریج نے کہا ) یا اگر میں نے اجرت ( مزدوری ) پر رکھا اور سال کے کچھ دن گزر گئے ہوں ؟ عطاء نے کہا : تم گزرے ہوئے دن کو شمار نہیں کرو گے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3892]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19075) (صحیح الإسناد)