سنن النسائي حدیث نمبر: 3891
Sunan an-Nasa'i 3891
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
1: بَابُ : الثَّالِثُ مِنَ الشُّرُوطِ فِيهِ الْمُزَارَعَةُ وَالْوَثَائِقُ
باب: (سابقہ دو شرط قسم اور نذر کے ذکر کے بعد) تیسری شرط کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، وَقَتَادَةَ: " في رجل قَالَ لِرَجُلٍ: أَسْتَكْرِي مِنْكَ إِلَى مَكَّةَ بِكَذَا وَكَذَا، فَإِنْ سِرْتُ شَهْرًا أَوْ كَذَا وَكَذَا شَيْئًا سَمَّاهُ فَلَكَ زِيَادَةُ كَذَا وَكَذَا. فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا , وَكَرِهَا أَنْ يَقُولَ: أَسْتَكْرِي مِنْكَ بِكَذَا وَكَذَا، فَإِنْ سِرْتُ أَكْثَرَ مِنْ شَهْرٍ نَقَصْتُ مِنْ كِرَائِكَ كَذَا وَكَذَا".
حماد اور قتادہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے سلسلے میں پوچھا گیا ، جس نے ایک آدمی سے کہا : میں تجھ سے مکے تک کے لیے اتنے اور اتنے میں کرائے پر ( سواری ) لیتا ہوں ۔ اگر میں ایک مہینہ یا اس سے کچھ زیادہ - اور اس نے فاضل مسافت کی تعیین کر دی - چلا تو تیرے لیے اتنا اور اتنا زیادہ کرایہ ہو گا ۔ تو اس ( صورت ) میں انہوں نے کوئی حرج نہیں سمجھا ۔ لیکن اس ( صورت ) کو انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ کہے کہ میں تم سے اتنے اور اتنے میں کرائے پر ( سواری ) لیتا ہوں ، اب اگر مجھے ایک مہینہ سے زائد چلنا پڑا ۱؎ ، تو میں تمہارے کرائے میں سے اسی قدر اتنا اور اتنا کاٹ لوں گا ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3891]
💡 وضاحت:
۱؎: سواری کی سست رفتاری کے سبب ایسا کرنا پڑا تو ایسا کروں گا ۲؎: متعین مسافت (دوری) کو تیزی کی وجہ سے وقت سے پہلے طے کر لینے پر زیادہ اجرت بطور انعام و اکرام ہے اس لیے دونوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے، اور دھیرے دھیرے چلنے کی وجہ سے کرائے میں کمی کرنا ظلم اور دوسرے کے حق کو چھیننے کے مشابہ ہے، یہی وجہ کہ دونوں نے اس دوسری صورت کو مکروہ جانا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18593) (صحیح الإسناد)