سنن النسائي حدیث نمبر: 3804
Sunan an-Nasa'i 3804
کتاب #40: ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
9: بَابُ : الْحَلِفِ بِالْكَعْبَةِ
باب: کعبہ کی قسم کھانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ قُتَيْلَةَ امْرَأَةٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، أَنَّ يَهُودِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّكُمْ تُنَدِّدُونَ , وَإِنَّكُمْ تُشْرِكُونَ , تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ , وَتَقُولُونَ: وَالْكَعْبَةِ. فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَادُوا أَنْ يَحْلِفُوا أَنْ يَقُولُوا: وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، وَيَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شِئْتَ".
قبیلہ جہینہ کی ایک عورت قتیلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : تم لوگ ( غیر اللہ کو اللہ کے ساتھ ) شریک ٹھہراتے اور شرک کرتے ہو ، تم کہتے ہو : جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں ، اور تم کہتے ہو : کعبے کی قسم ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جب وہ قسم کھانا چاہیں تو کہیں : ” کعبے کے رب کی قسم ! “ اور کہیں : ” جو اللہ چاہے پھر آپ جو چاہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3804]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ اچھی بات کی رہنمائی کوئی بھی کرے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، خصوصا جب اس کا تعلق توحید و شرک کے مسائل سے ہو تو اسے بدرجہ اولیٰ قبول کرنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18046)، مسند احمد (6/371، 372)، والمؤلف في عمل الیوم واللیلة 284 (986) (صحیح)