سنن النسائي حدیث نمبر: 3803
Sunan an-Nasa'i 3803
کتاب #40: ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
8: بَابُ : الْحَلِفِ بِالْبَرَاءَةِ مِنَ الإِسْلاَمِ
باب: اسلام سے برأت اور لاتعلقی کی قسم کھانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا لَمْ يَعُدْ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کہا : ( اگر میں نے یہ کیا ہوا تو ) میں اسلام سے بری اور لاتعلق ہوں ، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ، اور اگر وہ سچا ہے تو بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3803]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ کہہ کر قسم کھانا کہ میں اسلام سے بری و بیزار ہوں اس کے گناہ گار ہونے کے لیے کافی ہے، اسے چاہیئے کہ توبہ و استغفار کرے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأیمان 9 (3258)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 3 (2100)، (تحفة الأشراف: 1959)، مسند احمد (5/355، 356) (صحیح)