سنن النسائي حدیث نمبر: 3757
Sunan an-Nasa'i 3757
کتاب #39: کتاب: عمریٰ کے احکام و مسائل
1: بَابُ : الْعُمْرى لِلْوَارِثِ
باب: عمریٰ (یعنی تاحیات عطیہ) وارث کا حق ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ، عَنْ طَاوُسٍ" بَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى".
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ اور رقبیٰ کو کاٹ کر الگ کر دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3757]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر کسی نے کسی کو کوئی چیز عمریٰ یا رقبیٰ میں دی تو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واہب (دینے والے) سے کاٹ کر الگ کر دیا، اب وہ واپس لینے کا حقدار نہیں، جس کو دیا ہے ہمیشہ کے لیے اسی کا ہو جائے گا اس کے مر جانے کے بعد اس کے ورثاء اس کے حقدار ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (طاؤس نے اسے مرسل روایت کیا ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)