سنن النسائي حدیث نمبر: 3755
Sunan an-Nasa'i 3755
کتاب #39: کتاب: عمریٰ کے احکام و مسائل
1: بَابُ : الْعُمْرى لِلْوَارِثِ
باب: عمریٰ (یعنی تاحیات عطیہ) وارث کا حق ہے۔
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ الْحَجُورِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمریٰ نافذ ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3755]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر کوئی کسی کو کوئی چیز زندگی بھر کے لیے دیتا ہے تو دے سکتا ہے مگر دینے کے بعد واپس نہ ہو گی جس کو دیا ہے (وہ ہمیشہ کے لیے) اسی کی ہو جائے گی، اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5393)، مسند احمد (1/250) (صحیح)