سنن النسائي حدیث نمبر: 3686
Sunan an-Nasa'i 3686
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
8: بَابُ : فَضْلِ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ
باب: میت کی طرف سے صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا، قَالَ: " أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ".
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : میری ماں مر چکی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے ، اگر میں ان کی طرف سے ( ایک غلام ) آزاد کر دوں تو کیا یہ ان کی طرف سے پوری ہو جائے گی ؟ آپ نے فرمایا : ” ( ہاں ) اپنی ماں کی طرف سے غلام آزاد کر دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3686]
💡 وضاحت:
۱؎: سعد بن عبادہ کی ماں نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3837، (حم (6/7) (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)