سنن النسائي حدیث نمبر: 3683
Sunan an-Nasa'i 3683
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
8: بَابُ : فَضْلِ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ
باب: میت کی طرف سے صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ تُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ، وَإِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً نُوبِيَّةً أَفَيُجْزِئُ عَنِّي أَنْ أُعْتِقَهَا عَنْهَا؟ قَالَ: " ائْتِنِي بِهَا" , فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَبُّكِ؟" قَالتْ: اللَّهُ، قَالَ: مَنْ أنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: " فَأَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے عرض کیا : میری ماں نے وصیت کی ہے کہ ان کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دیا جائے اور میرے پاس حبشی نسل کی ایک لونڈی ہے ، اگر میں اسے ان کی طرف سے آزاد کر دوں تو کیا وہ کافی ہو جائے گی ؟ آپ نے فرمایا : ” جاؤ اسے ساتھ لے کر آؤ “ چنانچہ میں اسے ساتھ لیے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہو گیا ، آپ نے اس سے پوچھا : ” تمہارا رب ( معبود ) کون ہے ؟ “ اس نے کہا : اللہ ، آپ نے ( پھر ) اس سے پوچھا : ” میں کون ہوں ؟ “ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ نے فرمایا : ” اسے آزاد کر دو ، یہ مسلمان عورت ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3683]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأیمان والنذور 19 (3283)، (تحفة الأشراف: 4839)، مسند احمد (4/222، 388، 389)، سنن الدارمی/النذور 10 (2393) (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 3161، تراجع الالبانی 107)