سنن النسائي حدیث نمبر: 3665
Sunan an-Nasa'i 3665
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
3: بَابُ : الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ
باب: تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي وَلَدٌ إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ، فَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا"، قَالَ: فَأُوصِي بِنِصْفِهِ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا"، قَالَ: فَأُوصِي بِثُلُثِهِ؟ قَالَ: " الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، اس وقت وہ بیمار تھے ، انہوں نے آپ سے عرض کیا : ( اللہ کے رسول ! ) میری کوئی اولاد ( نرینہ ) نہیں ہے ، صرف ایک بچی ہے ۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دیتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ، انہوں نے کہا : آدھے کی وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ، انہوں نے کہا : تو میں ایک تہائی مال کی وصیت کرتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3665]
💡 وضاحت:
۱؎: سعد بن مالک ہی سعد بن ابی وقاص ہیں، والد کا نام مالک اور کنیت ابوسعد ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3927)، مسند احمد (1/172، 173)، سنن الدارمی/الوصیة 7 (3238) (صحیح)