سنن النسائي حدیث نمبر: 3662
Sunan an-Nasa'i 3662
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
3: بَابُ : الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ
باب: تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَهُ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: " لَا"، قَالَ: فَالشَّطْرَ؟ قَالَ: " لَا"، قَالَ: فَالثُّلُثَ؟ قَالَ: " الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیماری میں ان کی عیادت کی ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ، کہا : آدھے کی کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ، کہا : تہائی کی کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک تہائی کی کر دو ، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3662]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3906)، مسند احمد (1/172) (صحیح)