سنن النسائي حدیث نمبر: 3642
Sunan an-Nasa'i 3642
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
1: بَابُ : الْكَرَاهِيَةِ فِي تَأْخِيرِ الْوَصِيَّةِ
باب: وصیت میں تاخیر مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ، مَالُكَ مَا قَدَّمْتَ وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کون شخص ہے جس کو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پسند ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے ہر شخص کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سمجھو اس بات کو ، تم میں سے ہر شخص کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز و محبوب ہے ، تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے ( مرنے سے پہلے اپنی آخرت میں کام آنے کے لیے ) آگے بھیج دیا اور تمہارے وارث کا مال وہ ہے جو تم نے ( مرنے کے بعد ) اپنے پیچھے چھوڑ دیا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3642]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اپنی زندگی ہی میں کسی کو دے دلا دینا زیادہ بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الرقاق 12 (6442)، (تحفة الأشراف: 9192)، مسند احمد (1/382) (صحیح)