سنن النسائي حدیث نمبر: 3641
Sunan an-Nasa'i 3641
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
1: بَابُ : الْكَرَاهِيَةِ فِي تَأْخِيرِ الْوَصِيَّةِ
باب: وصیت میں تاخیر مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: " أَنْ تَصَدَّقَ، وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ: كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا صدقہ اجر و ثواب میں سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہارا اس وقت صدقہ کرنا جب تندرست اور صحت مند ہو ، تمہیں مال جمع کرنے کی حرص ہو ، محتاج ہو جانے کا ڈر ہو اور تمہیں لمبی مدت تک زندہ رہنے کی امید ہو اور صدقہ کرنے میں جان نکلنے کے وقت کا انتظار نہ کر کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو : فلاں کو اتنا دے دو ، حالانکہ اب تو وہ فلاں ہی کا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3641]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مرتے وقت صدقہ دینے میں زیادہ ثواب نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2543 (صحیح)