سنن النسائي حدیث نمبر: 3629
Sunan an-Nasa'i 3629
کتاب #34: کتاب: اللہ کی راہ میں مال وقف کرنے کے احکام و مسائل
2: بَابُ : الإِحْبَاسِ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى ابْنِ عَوْنٍ فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ فِيهِ
باب: وقف کس طرح لکھا جائے گا؟ ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث ابن عون پر ان کے تلامذہ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي، فَكَيْفَ تَأْمُرُ بِهِ؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى أَنْ لَا تُبَاعَ، وَلَا تُوهَبَ، وَلَا تُورَثَ فِي الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى، وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالضَّيْفِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ( بعد فتح خیبر تقسیم غنیمت میں ) ایک زمین ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے جس سے بہتر مال میرے نزدیک مجھے کبھی نہیں ملا ، تو آپ ہمیں بتائیں میں اسے کیا کروں ، آپ نے فرمایا : ” اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس سے حاصل پیداوار کو تقسیم ( خیرات ) کر دو ، تو انہوں نے اس زمین کو بایں طور صدقہ کر دیا کہ وہ نہ بیچی جائے گی نہ وہ بخشش میں دی جائے گی اور نہ وہ ورثہ میں دی جائے گی ، اس کی آمدنی تقسیم ہو گی فقراء میں ، جملہ رشتہ ناطہٰ والوں میں ، غلام آزاد کرنے میں ، اللہ کی راہ ( جہاد ) میں ، مہمان نوازی میں ، مسافروں کی امداد میں ، اس زمین کے متولی ( نگران و مہتمم ) کے اس کی آمدنی میں سے معروف طریقے سے کھانے پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور نہ ہی دوست واحباب کو کھلانے میں کوئی حرج ہے لیکن ( اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر ) مالدار بننے کی کوشش نہ کرے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3629]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشروط 19 (2737)، الوصایا 28 (2772)، صحیح مسلم/الوصایا 4 (1633)، سنن ابی داود/الوصایا 13 (2878)، سنن الترمذی/الأحکام 36 (1375)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 4 (2396)، (تحفة الأشراف: 7742)، مسند احمد (2/12، 55) (صحیح)