سنن النسائي حدیث نمبر: 3569
Sunan an-Nasa'i 3569
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
67: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْكُحْلِ، لِلْحَادَّةِ
باب: سوگ منانے والی عورت کو سرمہ لگانا منع ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنِ ابْنَتِهَا مَاتَ زَوْجُهَا وَهِيَ تَشْتَكِي، قَالَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَحِدُّ السَّنَةَ، ثُمَّ تَرْمِي الْبَعْرَةَ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے اپنی بیٹی کا ذکر کر کے جس کا شوہر مر گیا تھا اور اس کی آنکھیں دکھتی تھیں ( اس کے علاج و معالجے کے لیے ) مسئلہ پوچھا ، آپ نے فرمایا : ” تمہاری ہر عورت ( جس کا شوہر مر جاتا تھا ) پورے سال سوگ مناتی تھی ( اور ہر طرح کی تکلیف اٹھاتی تھی ) اور پھر سال پورا ہونے پر مینگنیاں پھینکتی تھی اور اب یہ ( اسلام میں گھٹ کر ) چار مہینے دس دن ہیں ( تو تمہیں آنکھ کی تھوڑی سی تکلیف بھی برداشت نہیں ہوتی ؟ ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3569]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3531 (صحیح)