سنن النسائي حدیث نمبر: 3568
Sunan an-Nasa'i 3568
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
67: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْكُحْلِ، لِلْحَادَّةِ
باب: سوگ منانے والی عورت کو سرمہ لگانا منع ہے۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَهُوَ ابْنُ مُوسَى، قَالَ حُمَيْدٌ: وَحَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي رَمِدَتْ، أَفَأَكْحُلُهَا؟ وَكَانَتْ مُتَوَفًّى عَنْهَا، فَقَالَ: " أَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا"، ثُمَّ قَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ عَلَى بَصَرِهَا، فَقَالَ: " لَا، إِلَّا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا سَنَةً، ثُمَّ تَرْمِي عَلَى رَأْسِ السَّنَةِ بِالْبَعْرَةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش کی ایک عورت آئی اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میری بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہے اور وہ اپنے شوہر کے مرنے کا سوگ منا رہی ہے تو کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا دوں ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا چار مہینے دس دن نہیں ٹھہر سکتی ؟ “ اس عورت نے پھر کہا : مجھے اس کی بینائی کے جانے کا خوف ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے نہیں لگا سکتی ، زمانہ جاہلیت میں تمہاری ہر عورت اپنے شوہر کے مرنے پر سال بھر کا سوگ مناتی تھی پھر سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3568]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3531 (صحیح)