سنن النسائي حدیث نمبر: 3551
Sunan an-Nasa'i 3551
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
56: بَابُ : عِدَّةِ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي نَاسٍ بِالْكُوفَةِ فِي مَجْلِسٍ لِلْأَنْصَارِ عَظِيمٍ، فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، فَذَكَرُوا شَأْنَ سُبَيْعَة فَذَكَرْتُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَوْنٍ: حَتَّى تَضَعَ، قَالَ: ابْنُ أَبِي لَيْلَى: لَكِنَّ عَمَّهُ لَا يَقُولُ ذَلِكَ، فَرَفَعْتُ صَوْتِي، وَقُلْتُ: إِنِّي لَجَرِيءٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ، قَالَ: فَلَقِيتُ مَالِكًا، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِي شَأْنِ سُبَيْعَةَ؟ قَالَ: قَالَ: " أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ، وَلَا تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ؟ لَأُنْزِلَتْ: سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں انصار کی ایک بڑی مجلس میں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ، اس مجلس میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلی بھی موجود تھے ، ان لوگوں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ چھیڑا تو میں نے عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کی روایت کا ذکر کیا جو ( روایت ) ابن عون کے قول «حتیٰ تضع» کے معنی اور حق میں تھی ( یعنی حمل والی عورت کی عدت وضع حمل ہے ) ، ( اس بات پر ) ابن ابی لیلیٰ نے کہا : لیکن ان کے ( یعنی عبداللہ بن عتبہ کے ) چچا ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) اس کے قائل نہ تھے ( کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے بلکہ وہ زیادہ مدت والی عدت کے قائل تھے ) تب میں نے اپنی آواز بلند کی اور ( زور سے ) کہا : کیا میں جرات کر سکتا ہوں کہ عبداللہ بن عتبہ پر جھوٹا الزام لگاؤں ( یہ نہیں ہو سکتا ) وہ ( عبداللہ بن عتبہ ) کوفہ کے علاقے میں موجود ہیں ( جس کو ذرا بھی شک و شبہ ہو وہ ان سے پوچھ سکتا ہے ) پھر میں مالک ( بن عامر ابن عود ) سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سبیعہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا کہتے تھے ؟ مالک نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم لوگ اس پر سختی اور تنگی ڈالتے ہو ( اس سے زیادہ مدت والی عدت پر عمل کرانا چاہتے ہو ) اور اسے رخصت سے فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہتے ۔ جب کہ چھوٹی سورۃ النساء ( یعنی سورۃ الطلاق ، جس میں حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل بتائی گئی ہے ) بڑی سورۃ ( بقرہ ) کے بعد اتری ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3551]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ عدت چار ماہ دس دن کی عدت سے مستثنیٰ اور الگ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیرسورة البقرة 41 (4532)، تفسیرسورة الطلاق1 (4910) تعلیقًا، (تحفة الأشراف: 9544) (صحیح)