سنن النسائي حدیث نمبر: 3538
Sunan an-Nasa'i 3538
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
56: بَابُ : عِدَّةِ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ، قَالَ: " وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَلَمَّا تَعَلَّتْ تَشَوَّفَتْ لِلْأَزْوَاجِ، فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا يَمْنَعُهَا قَدِ انْقَضَى أَجَلُهَا".
ابوسنابل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو مرے ہوئے ۲۳ یا ۲۵ راتیں گزریں تھیں کہ اس نے بچہ جنا پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئی تو اس نے ( نئی ) شادی کی تیاری کی اور اس کے لیے زیب و زینت سے مزین ہوئی تو اس کے لیے ایسا کرنا غیر مناسب سمجھا ( اور ناپسند کیا ) گیا اور اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی گئی تو آپ نے فرمایا : ” جب اس کی عدت پوری ہو چکی ہے تو اب اس کے لیے کیا رکاوٹ ہے ؟ “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3538]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ ایسا کر سکتی ہے یہ کوئی عیب و برائی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطلاق 17 (1193)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2027)، (تحفة الأشراف: 12053)، مسند احمد (4/304، 305)، سنن الدارمی/الطلاق 11 (2327) (صحیح)