سنن النسائي حدیث نمبر: 3526
Sunan an-Nasa'i 3526
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
52: بَابُ : إِسْلاَمِ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ وَتَخْيِيرِ الْوَلَدِ
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کر لے تو نابالغ بیٹے کو کسی ایک کے ساتھ ہو جانے کا اختیار دیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: " إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ، فَجَاءَ زَوْجُهَا، وَقَالَ: مَنْ يُخَاصِمُنِي فِي ابْنِي، فَقَالَ: " يَا غُلَامُ، هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ، فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ".
ابومیمونہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ! میرا شوہر میرا بیٹا مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے جب کہ مجھے اس سے فائدہ ( و آرام ) ہے ، وہ مجھے عنبہ کے کنویں کا پانی ( لا کر ) پلاتا ہے ، ( اتنے میں ) اس کا شوہر بھی آ گیا اور اس نے کہا : کون میرے بیٹے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا ( اور اختلاف ) کرتا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے بیٹے سے کہا : ) اے لڑکے ! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے ، تو تم جس کے ساتھ رہنا چاہو اس کا ہاتھ پکڑ لو چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3526]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطلاق 35 (2277) مطولا، سنن الترمذی/الأحکام 21 (1357)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 22 (2351، 2352)، (تحفة الأشراف: 15463)، مسند احمد (2/447)، سنن الدارمی/الطلاق 16 (2339) (صحیح)