سنن النسائي حدیث نمبر: 3523
Sunan an-Nasa'i 3523
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
51: بَابُ : الْقَافَةِ
باب: قیافہ شناسوں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ، فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے ، آپ کے چہرے کے خطوط خوشی سے چمک دمک رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” ارے تمہیں نہیں معلوم ؟ مجزز ( قیافہ شناس ہے ) نے زید بن حارثہ اور اسامہ کو دیکھا تو کہنے لگا : ان کے پیروں کے بعض حصے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3523]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خوش ہونے کا سبب یہ تھا کہ لوگ اسامہ رضی الله عنہ کے نسب میں شک و شبہ کرتے تھے کہ زید رضی الله عنہ گورے ہیں اور اسامہ رضی الله عنہ کالے ہیں، ساتھ ہی یہ لوگ قیافہ شناس کی بات پر اعتماد بھی کرتے تھے اور جب قیافہ شناس نے یہ کہہ دیا کہ اسامہ کا نسبی تعلق زید سے ہے تو آپ بےحد خوش ہوئے کیونکہ قیافہ شناس کی بات سن کر لوگ اب اسامہ کے سلسلہ میں طعن و تشنیع سے کام نہیں لیں گے، قیافہ شناس کی بات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوش ہونا دلیل ہے اس بات کی کہ قیافہ سے نسب کا اثبات صحیح ہے، جمہور کا یہی مسلک ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 23 (3555)، وفضائل الصحابة 17 (3731)، والفرائض 31 (6770)، صحیح مسلم/الرضاع (1459)، سنن ابی داود/الطلاق 31 (2268)، سنن الترمذی/الولائ5 (2129)، (تحفة الأشراف: 16581)، مسند احمد (6/82، 226)، ویأتي فیما یلي (صحیح)