سنن النسائي حدیث نمبر: 3493
Sunan an-Nasa'i 3493
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
34: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْخُلْعِ
باب: خلع کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَمَا إِنِّي مَا أَعِيبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ، وَلَا دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : میں ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین میں کسی کمی و کوتاہی کا الزام نہیں لگاتی لیکن میں اسلام میں رہتے ہوئے کفر و ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اسے اس کا باغ واپس کر دو گی ؟ “ ( وہ باغ انہوں نے انہیں مہر میں دیا تھا ) انہوں نے کہا : جی ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے فرمایا : ” اپنا باغ لے لو اور انہیں ایک طلاق دے دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3493]
💡 وضاحت:
۱؎: ہو سکتا ہے میرے انہیں ناپسند کرنے کی وجہ سے ان کی خدمت کرنے میں کوئی کمی و کوتاہی، نافرمانی و ناشکری ہو جائے اور میں گناہ گار ہو جاؤں، اس لیے میں ان سے علیحدگی چاہتی ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطلاق 12 (5273)، (تحفة الأشراف: 6052)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 18 (2229)، سنن الترمذی/الطلاق 10 (1185) (صحیح)