📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: طلاق کے احکام و مسائل (كتاب الطلاق) 🏷️ باب: باب: شوہر کے پاس رہنے یا اس سے الگ ہونے کے اختیار کی مدت متعین کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 3469 Sunan an-Nasa'i 3469
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
26: بَابُ : التَّوْقِيتِ فِي الْخِيَارِ
باب: شوہر کے پاس رہنے یا اس سے الگ ہونے کے اختیار کی مدت متعین کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَمُوسَى بْنُ عُلَيٍّ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، فَقَالَ: إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تُعَجِّلِي، حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَايَ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِّي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا إِلَى قَوْلِهِ: جَمِيلا سورة الأحزاب آية 28، فَقُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَسُولَهُ، وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ حِينَ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاخْتَرْنَهُ طَلَاقًا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُنَّ اخْتَرْنَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( اختیار دہی ) کی ابتداء مجھ سے کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں تو ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر فیصلہ لینے میں جلدی نہ کرنا “ ۲؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخوبی سمجھتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا» ” اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں “ ۔ ( الاحزاب : ۲۸ ) تک پڑھی ( یہ آیت سن کر ) میں نے کہا : میں اس بات کے لیے اپنے ماں باپ سے صلاح و مشورہ لوں ؟ ( مجھے کسی سے مشورہ نہیں لینا ہے ) میں اللہ عزوجل ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں ( یہی میرا فیصلہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں نے بھی ویسا ہی کیا ( اور کہا ) جیسا میں نے کیا ( اور کہا ) تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سے کہنے اور ان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کر لینے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۴؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3469]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دنیا اور اس کی زینت اور نبی کی مصاحبت میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کر لیں۔ ۲؎: معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی الله عنہا کے خیار کی مدت ماں باپ سے مشورہ لینے تک متعین کی۔ ۴؎: اس لیے کہ وہ بیویاں تو پہلے ہی سے تھیں، اگر وہ آپ کو منتخب نہ کرتیں تب طلاق ہو جاتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3203 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #3469
3467 3468 3469 3470 3471

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3470 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ...
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت : «إن كنتن تردن اللہ ورسوله» اتری تو نبی اکرم صلی...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ