سنن النسائي حدیث نمبر: 3468
Sunan an-Nasa'i 3468
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
25: بَابُ : الإِبَانَةِ وَالإِفْصَاحِ بِالْكَلِمَةِ الْمَلْفُوظِ بِهَا إِذَا قَصَدَ بِهَا لِمَا لاَ يَحْتَمِلُ مَعْنَاهَا لَمْ تُوجِبْ شَيْئًا وَلَمْ تُثْبِتْ حُكْمًا
باب: زبان سے ادا کیے ہوئے کلمہ کا اگر کوئی وہ معنی و مفہوم مراد لے جو اس سے نہیں نکلتا تو اس سے کوئی حکم ثابت نہ ہو گا۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ: " انْظُرُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ، وَلَعْنَهُمْ، إِنَّهُمْ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذرا دیکھو تو ( غور کرو ) اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں اور لعنتوں سے مجھے کس طرح بچا لیتا ہے ، وہ لوگ مجھے مذمم کہہ کر گالیاں دیتے اور مذمم کہہ کر مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں اور میں محمد ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3468]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نام اور وصف دونوں اعتبار سے میں محمد ہوں، لہٰذا مجھ پر مذمم کا اطلاق کسی بھی صورت میں ممکن ہی نہیں، کیونکہ محمد کا مطلب ہے جس کی تعریف کی گئی ہو تو مجھ پر ان کی گالیوں اور لعنتوں کا اثر کیونکر پڑ سکتا ہے۔ گویا ایسا لفظ جو طلاق کے معنی و مفہوم کے منافی ہے اس کا اطلاق طلاق پر اسی طرح نہیں ہو سکتا جس طرح مذمم کا اطلاق محمد پر نہیں ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13782)، مسند احمد (2/244، 340، 369) (صحیح)