سنن النسائي حدیث نمبر: 3335
Sunan an-Nasa'i 3335
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
59: بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ }
باب: آیت کریمہ: ”اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں“ کی تفسیر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسٍ، فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ، وَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ، فَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي الْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24 , أَيْ هَذَا لَكُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر اوطاس کی طرف بھیجا ۱؎ وہاں ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہو گئی ، اور انہوں نے دشمن کا بڑا خون خرابہ کیا ، اور ان پر غالب آ گئے ، انہیں ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے شوہر مشرکین میں رہ گئے تھے ، چنانچہ مسلمانوں نے ان قیدی باندیوں سے صحبت کرنا مناسب نہ سمجھا ، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» ” اور ( حرام کی گئیں ) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں “ ( النساء : ۲۴ ) یعنی یہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہو جائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3335]
💡 وضاحت:
۱؎: ”اوطاس“ طائف میں ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرضاع 9 (1456)، سنن ابی داود/النکاح 45 (2155)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النسائ5 (3017)، (تحفة الأشراف: 4434) (صحیح)