سنن النسائي حدیث نمبر: 3219
Sunan an-Nasa'i 3219
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
4: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ التَّبَتُّلِ
باب: مجرد (عورتوں سے الگ تھلگ) رہنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَصُومُ فَلَا أُفْطِرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا؟ لَكِنِّي أُصَلِّي، وَأَنَامُ، وَأَصُومُ، وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں سے بعض نے کہا : میں نکاح ( شادی بیاہ ) نہیں کروں گا ، بعض نے کہا : میں گوشت نہ کھاؤں گا ، بعض نے کہا : میں بستر پر نہ سوؤں گا ، بعض نے کہا : میں مسلسل روزے رکھوں گا ، کھاؤں پیوں گا نہیں ، یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ( لوگوں کے سامنے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ۔ ( مجھے دیکھو ) میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں ، اور عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں ۔ ( سن لو ) جو شخص میری سنت سے اعراض کرے ( میرے طریقے پر نہ چلے ) سمجھ لو وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3219]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 1 (5063)، صحیح مسلم/النکاح 1 (1401)، (تحفة الأشراف: 334)، مسند احمد (3/241، 259، 285) (صحیح)