سنن النسائي حدیث نمبر: 3216
Sunan an-Nasa'i 3216
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
4: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ التَّبَتُّلِ
باب: مجرد (عورتوں سے الگ تھلگ) رہنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَتَادَةُ أَثْبَتُ وَأَحْفَظُ مِنْ أَشْعَثَ , وَحَدِيثُ أَشْعَثَ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : قتادہ اشعث سے زیادہ ثقہ اور مضبوط حافظہ والے تھے لیکن اشعث کی حدیث صحت سے زیادہ قریب لگتی ہے ۱؎ واللہ أعلم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3216]
💡 وضاحت:
۱؎: وجہ اس کی یہ ہے کہ اشعث کی روایت میں حسن اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان ایک واسطہ سعد بن ہشام کا ہے جب کہ قتادہ کی روایت میں حسن اور صحابی رسول سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کے درمیان کوئی دوسرا واسطہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/النکاح 2 (1082)، سنن ابن ماجہ/النکاح 2 (1849)، (تحفة الأشراف: 4590)، مسند احمد (5/17) (صحیح)