سنن النسائي حدیث نمبر: 3199
Sunan an-Nasa'i 3199
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
1: بَابُ : ذِكْرِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النِّكَاحِ وَأَزْوَاجِهِ وَمَا أَبَاحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَظَرَهُ عَلَى خَلْقِهِ زِيَادَةً فِي كَرَامَتِهِ وَتَنْبِيهًا لِفَضِيلَتِهِ
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ يُصِيبُهُنَّ، إِلَّا سَوْدَةَ، فَإِنَّهَا وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس حال میں کہ آپ کے پاس نو بیویاں تھیں ، آپ ان کے پاس ان کی باری کے موافق جایا کرتے تھے سوائے سودہ کے کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے وقف کر دیا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3199]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5950) (صحیح الإسناد)