سنن النسائي حدیث نمبر: 3198
Sunan an-Nasa'i 3198
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
1: بَابُ : ذِكْرِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النِّكَاحِ وَأَزْوَاجِهِ وَمَا أَبَاحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَظَرَهُ عَلَى خَلْقِهِ زِيَادَةً فِي كَرَامَتِهِ وَتَنْبِيهًا لِفَضِيلَتِهِ
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ جَنَازَتَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا".
عطا کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں گئے ، تو آپ نے کہا : یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں ، تم ان کا جنازہ نہایت سہولت کے ساتھ اٹھانا ، اسے ہلانا نہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں ۔ آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے ، اور ایک کے لیے نہیں کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3198]
💡 وضاحت:
۱؎: جن کے لیے باری مقرر نہیں کرتے تھے وہ سودہ رضی الله عنہا ہیں انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی الله عنہا کو ہبہ کر دی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 4 (5067)، صحیح مسلم/الرضاع 14 (1465)، (تحفة الأشراف: 5914)، مسند احمد (1/231، 348، 349) (صحیح)