سنن النسائي حدیث نمبر: 2997
Sunan an-Nasa'i 2997
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
188: بَابُ : الْمُتَمَتِّعِ مَتَى يُهِلُّ بِالْحَجّ
باب: تمتع کرنے والا حج کا احرام کب باندھے؟
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً"، فَضَاقَتْ بِذَلِكَ صُدُورُنَا، وَكَبُرَ عَلَيْنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا، فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي، لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُونَ" , فَأَحْلَلْنَا حَتَّى وَطِئْنَا النِّسَاءَ، وَفَعَلْنَا مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ، لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مکہ ) آئے تو ذی الحجہ کی چار تاریخیں گزر چکی تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” احرام کھول ڈالو اور اسے عمرہ بنا لو “ ، اس سے ہمارے سینے تنگ ہو گئے ، اور ہمیں یہ بات شاق گزری ۔ اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” لوگو ! حلال ہو جاؤ ( احرام کھول دو ) اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو تم لوگ کر رہے ہو “ ، تو ہم نے احرام کھول دئیے ، یہاں تک کہ ہم نے اپنی عورتوں سے صحبت کی ، اور وہ سارے کام کئے جو غیر محرم کرتا ہے یہاں تک کہ یوم ترویہ یعنی آٹھویں تاریخ آئی ، تو ہم مکہ کی طرف پشت کر کے حج کا تلبیہ پکارنے لگے ( اور منیٰ کی طرف چل پڑے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2997]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2445)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 17 (1216)، سنن ابی داود/الحج 23 (1788)، و مسند احمد (3/292، 364، 302) (صحیح)