سنن النسائي حدیث نمبر: 2995
Sunan an-Nasa'i 2995
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
186: بَابُ : مَا يَفْعَلُ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى
باب: عمرہ کا احرام باندھنے والے کے پاس ہدی ہو تو وہ کیا کرے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ"، قَالَتْ: وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَأَقَامَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ، فَأَحْلَلْتُ، فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَتَطَيَّبْتُ مِنْ طِيبِي، ثُمَّ جَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: اسْتَأْخِرِي عَنِّي، فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ.
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے ، جب مکہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے ( یعنی احرام کھول دے ) اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اپنے احرام پر باقی رہے “ ، زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی تھی تو وہ اپنے احرام پر باقی رہے اور میرے پاس ہدی نہ تھی تو میں نے احرام کھول دیا ، اپنے کپڑے پہن لیے اور اپنی خوشبو میں سے ، خوشبو لگائی ، پھر ( جا کر ) زبیر کے پاس بیٹھی ، تو وہ کہنے لگے : مجھ سے دور ہو کر بیٹھو ۔ تو میں نے ان سے کہا : کیا آپ ڈر رہے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2995]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 29 (1236)، سنن ابن ماجہ/الحج 41 (2983)، (تحفة الأشراف: 15739)، مسند احمد (6/350، 351) (صحیح)