سنن النسائي حدیث نمبر: 2941
Sunan an-Nasa'i 2941
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
148: بَابُ : كَيْفَ يُقَبِّل
باب: حجر اسود کا بوسہ کس طرح لیا جائے؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ حَنْظَلَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ طَاوُسًا يَمُرُّ بِالرُّكْنِ، فَإِنْ وَجَدَ عَلَيْهِ زِحَامًا مَرَّ وَلَمْ يُزَاحِمْ، وَإِنْ رَآهُ خَالِيًا قَبَّلَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ" , وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ حَجَرٌ لَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ، مَا قَبَّلْتُكَ" , ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ".
حنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس کو دیکھا وہ رکن ( یعنی حجر اسود ) سے گزرتے ، اگر وہاں بھیڑ پاتے تو گزر جاتے کسی سے مزاحمت نہ کرتے ، اور اگر خالی پاتے تو اسے تین بار بوسہ لیتے ، پھر کہتے : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا ہی کرتے دیکھا ۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے انہوں نے اسی طرح کیا ، پھر کہا : بلاشبہ تو پتھر ہے ، تو نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان ، اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2941]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد منكر بهذا السياق
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10503) (ضعیف) (اس کے راوی ”ولید“ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، لیکن میں صرف ”تین بار“ کا لفظ منکر ہے)