سنن النسائي حدیث نمبر: 2940
Sunan an-Nasa'i 2940
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
147: بَابُ : تَقْبِيلِ الْحَجَرِ
باب: حجر (اسود) کا بوسہ لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَجَرِيرٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ، فَقَالَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ، ثُمَّ دَنَا مِنْهُ فَقَبَّلَهُ".
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور کہا : میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا ، پھر وہ اس سے قریب ہوئے ، اور اسے بوسہ لیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2940]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 50 (1597)، 57 (1605)، 60 (1610)، صحیح مسلم/الحج 41 (1270)، سنن ابی داود/الحج 47 (1873)، سنن الترمذی/الحج 37 (860)، (تحفة الأشراف: 10373)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 27 (2943)، موطا امام مالک/الحج 36 (115)، مسند احمد (1/16، 26، 46)، سنن الدارمی/ المناسک 42 (1906) (صحیح)