سنن النسائي حدیث نمبر: 2925
Sunan an-Nasa'i 2925
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
136: بَابُ : إِبَاحَةِ الْكَلاَمِ فِي الطَّوَافِ
باب: دوران طواف بات چیت کے جواز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ فَأَقِلُّوا مِنَ الْكَلَامِ" , اللَّفْظُ لِيُوسُفَ خَالَفَهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ.
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے ، کہتے ہیں : ” بیت اللہ کا طواف نماز ہے تو ( دوران طواف ) باتیں کم کرو “ ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) اس حدیث کے الفاظ یوسف ( یوسف بن سعید ) کے ہیں ۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ان کی یعنی حسن ۱؎ مخالفت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2925]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں مخالفت سے لفظی مخالفت مراد ہے، معنوی نہیں کیونکہ مبہم اور مفسر میں کوئی تضاد نہیں ہے، حسن نے صحابی کے نام کو مبہم رکھا ہے، اور حنظلہ نے نام کی وضاحت کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5694)، مسند احمد (3/414 و4/64 و5/377) (صحیح)