سنن النسائي حدیث نمبر: 2866
Sunan an-Nasa'i 2866
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
104: بَابُ : دُخُولِ مَكَّةَ لَيْلاً
باب: مکہ میں رات میں داخل ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلًا مِنْ الْجِعِرَّانَةِ، حِينَ مَشَى مُعْتَمِرًا، فَأَصْبَحَ بِالْجِعِرَّانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، خَرَجَ عَنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى، جَامَعَ الطَّرِيقَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ مِنْ سَرِفَ".
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جعرانہ ۲؎ سے نکلے جس وقت آپ عمرہ کرنے کے لیے چلے پھر آپ رات ہی میں جعرانہ واپس آ گئے اور جعرانہ میں اس طرح صبح کی گویا آپ نے رات وہیں گزاری ہے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ جعرانہ سے چل کر بطن سرف پہنچے ، سرف سے مدینہ کی راہ لی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2866]
💡 وضاحت:
۱؎: ”جعرانہ“ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ ”سرف“ ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحج 81 (1996)، سنن الترمذی/الحج 93 (935)، (تحفة الأشراف: 11220)، مسند احمد (3/426، 427، 4/69، 5/380)، سنن الدارمی/المناسک 41 (1903) (صحیح)