📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل (كتاب الزكاة) 🏷️ باب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ بغیر مانگے مال دے دے۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 2607 Sunan an-Nasa'i 2607
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
94: بَابُ : مَنْ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالاً مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ
🏷️ باب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ بغیر مانگے مال دے دے۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ رَدَدْتَهَا، فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: لِي أَفْرَاسٌ وَأَعْبُدٌ وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْتَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ مَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت کے زمانہ میں آئے ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے ذمہ دار ہوتے ہو اور جب تمہیں مزدوری دی جاتی ہے تو قبول نہیں کرتے لوٹا دیتے ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ( صحیح ہے ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس سے تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا : میرے پاس گھوڑے ، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں ( مجھے کسی چیز کی محتاجی نہیں ہے ) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ایسا نہ کرو کیونکہ میں بھی یہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو ( لیکن اس کے باوجود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ ( بخشش ) دیتے تھے تو میں عرض کرتا تھا : اسے میرے بجائے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو ، تو آپ فرماتے : ” اسے لے کر اپنے مال میں شامل کر لو ، یا صدقہ کر دو ، سنو ! تمہارے پاس اس طرح کا جو بھی مال آئے جس کا نہ تم حرص رکھتے ہو اور نہ تم اس کے طلب گار ہو تو وہ مال لے لو ، اور جو اس طرح نہ آئے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2607]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2605 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #2607
2605 2606 2607 2608 2609

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2605 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ا...
عبداللہ بن ساعدی مالکی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا ، جب میں اس س...
#2606 أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَ...
عبداللہ بن السعدی القرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ شام سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ا...
#2608 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: ...
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے پاس ...
#2609 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُع...
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ ع...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ