سنن النسائي حدیث نمبر: 2605
Sunan an-Nasa'i 2605
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
94: بَابُ : مَنْ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالاً مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ
باب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ بغیر مانگے مال دے دے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا فَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ , فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: خُذْ مَا أَعْطَيْتُكَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ، فَكُلْ وَتَصَدَّقْ".
عبداللہ بن ساعدی مالکی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا ، جب میں اس سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا ، تو انہوں نے اس کام کی مجھے اجرت دینے کا حکم دیا ، میں نے ان سے عرض کیا کہ میں نے یہ کام صرف اللہ عزوجل کے لیے کیا ہے ، اور میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے ، تو انہوں نے کہا : ـ میں تمہیں جو دیتا ہوں وہ لے لو ، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک کام کیا تھا ، اور میں نے بھی آپ سے ویسے ہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو ( اسے ) کھاؤ ، اور ( اس میں سے ) صدقہ کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2605]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة51 (1473)، الأحکام17 (7163)، صحیح مسلم/الزکاة37 (1045)، سنن ابی داود/الزکاة28 (1647)، الخراج والإمارة10 (2944)، (تحفة الأشراف: 10487)، مسند احمد 1/17، 40، 52، 2/99، سنن الدارمی/الزکاة 19 (1688، 1689)، وسیأتی بعد ھذا بأرقام2606-2608 (صحیح)