سنن النسائي حدیث نمبر: 2596
Sunan an-Nasa'i 2596
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
89: بَابُ : مَنِ الْمُلْحِفُ
باب: چمٹ کر مانگنے والا کون ہے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ، وَقَعَدْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي وَقَالَ: " مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنِ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ" , فَقُلْتُ: نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میری ماں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( کچھ مانگنے کے لیے ) بھیجا ، میں آیا ، اور بیٹھ گیا ، آپ نے میری طرف منہ کیا ، اور فرمایا : ” جو بے نیازی چاہے گا اللہ عزوجل اسے بے نیاز کر دے گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا ، اور جو تھوڑے پر قناعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہو گا ۔ اور جو شخص مانگے اور اس کے پاس ایک اوقیہ ( یعنی چالیس درہم ) کے برابر مال ہو تو گویا اس نے چمٹ کر مانگا “ ، تو میں نے ( اپنے دل میں ) کہا : میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے ، چنانچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے واپس چلا آیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2596]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الزکاة23 (1628)، (تحفة الأشراف: 4121)، مسند احمد (3/9) (حسن صحیح)