📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل (كتاب الزكاة) 🏷️ باب: باب: مالداری کی حد کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 2593 Sunan an-Nasa'i 2593
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
87: بَابُ : حَدِّ الْغِنَى
باب: مالداری کی حد کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَتْ خُمُوشًا أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَاذَا يُغْنِيهِ أَوْ مَاذَا أَغْنَاهُ؟ قَالَ: " خَمْسُونَ دِرْهَمًا، أَوْ حِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ" , قَالَ يَحْيَى، قَالَ: سُفْيَانُ، وَسَمِعْتُ زُبَيْدًا يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے مانگنے سے بے نیاز کرتی ہو ، تو وہ قیامت کے دن اپنے چہرے پر خراشیں لے کر آئے گا “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کتنا مال ہو تو اسے غنی ( مالدار ) سمجھا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” پچاس درہم ، یا اس کی قیمت کا سونا ہو “ ۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں : سفیان ثوری نے کہا کہ میں نے زبید سے بھی سنا ہے ، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید کے واسطہ سے ( یہ حدیث ) بیان کر رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2593]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1626) ترمذي (650،651) ابن ماجه (1840) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الزکاة 23 (1626)، سنن الترمذی/الزکاة 22 (651)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 26 (1840)، (تحفة الأشراف: 9387) مسند احمد (1/388، 441)، سنن الدارمی/الزکاة 15 (1680) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #2593
2591 2592 2593 2594 2595
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ