سنن النسائي حدیث نمبر: 2552
Sunan an-Nasa'i 2552
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
62: بَابُ : الإِحْصَاءِ فِي الصَّدَقَةِ
باب: گن گن کر صدقہ کرنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! لَيْسَ لِي شَيْءٌ، إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ فِي أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ؟ فَقَالَ: " ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوكِي فَيُوكِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ".
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور کہنے لگیں : اللہ کے نبی ! میرے پاس تو کچھ ہوتا نہیں ہے سوائے اس کے کہ جو زبیر ( میرے شوہر ) مجھے ( کھانے یا خرچ کرنے کے لیے ) دے دیتے ہیں ، تو کیا اس دیے ہوئے میں سے میں کچھ ( فقراء و مساکین کو ) دے دوں تو مجھ پر گناہ ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” تم جو کچھ دے سکو دو ، اور روکو نہیں کہ اللہ عزوجل بھی تم سے روک لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2552]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 22 (1434)، صحیح مسلم/الزکاة 28 (1029)، (تحفة الأشراف: 15714)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة 46 (1699)، سنن الترمذی/البر 40 (1961)، مسند احمد (6/354) (صحیح)