سنن النسائي حدیث نمبر: 2547
Sunan an-Nasa'i 2547
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
60: بَابُ : أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ
باب: کون سا صدقہ افضل ہے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ؟" قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ عَنْ أَهْلِكَ، فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ، فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا ۱؎ ، یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس شخص سے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس اس غلام کے علاوہ بھی کوئی مال ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے مجھ سے کون خرید رہا ہے ؟ “ تو نعیم بن عبداللہ عدوی نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان درہموں کو لے کر آئے اور انہیں اس کے حوالہ کر دیا ، اور فرمایا : ” پہلے خود سے شروع کرو اسے اپنے اوپر صدقہ کرو اگر کچھ بچ رہے تو تمہاری بیوی کے لیے ہے ، اور اگر تمہاری بیوی سے بھی بچ رہے تو تمہارے قرابت داروں کے لیے ہے ، اور اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی بچ رہے تو اس طرح اور اس طرح کرو ، اور آپ اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کر رہے تھے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2547]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ کہہ دیا ہو کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔ ۲؎: مطلب یہ ہے کہ اپنے پاس پڑوس کے محتاجوں اور غریبوں کو دے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة13 (997)، والأیمان 13 (997)، (تحفة الأشراف: 2922)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع59 (2141)، 110 (223)، والاستقراض 16 (2403)، والخصومات3 (2415)، والعتق 9 (2534)، وکفارات الأیمان7 (6716)، والإکراہ4 (6947)، والأحکام32 (7186) (مختصراً)، سنن ابی داود/العتق9 (3957)، سنن ابن ماجہ/العتق1 (2513) (مختصراً)، مسند احمد (3/305، 368، 369، 370، 371) (صحیح)