سنن النسائي حدیث نمبر: 2544
Sunan an-Nasa'i 2544
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
60: بَابُ : أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ
باب: کون سا صدقہ افضل ہے؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو ( یعنی مالداری باقی رکھتے ہوئے ہو ) ، اور اوپر والا ہاتھ ( دینے والا ہاتھ ) نیچے والے ہاتھ ( لینے والا ہاتھ ) سے بہتر ہے ، اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی تم کفالت کرتے ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2544]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة32 (1034)، (تحفة الأشراف: 3435)، صحیح البخاری/الزکاة18 (1427)، مسند احمد 3/402، 403، 434، سنن الدارمی/الزکاة22 (1693) (صحیح)