سنن النسائي حدیث نمبر: 2526
Sunan an-Nasa'i 2526
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
48: بَابُ : الصَّدَقَةِ مِنْ غُلُولٍ
باب: چوری کے مال میں سے صدقہ دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ بِيَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص بھی اپنے پاکیزہ مال سے صدقہ دیتا ہے ( اور اللہ پاکیزہ مال ہی قبول کرتا ہے ) تو رحمن عزوجل اسے اپنے داہنے ہاتھ میں لیتا ہے گو وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو ، پھر وہ رحمن کے ہاتھ میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے ، جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے یا اونٹنی کے چھوٹے بچے کو پالتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2526]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 8 (1410)، التوحید 23 (7430) تعلیقا، صحیح مسلم/الزکاة 19 (1014)، سنن الترمذی/الزکاة 28 (661)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 28 (1842)، (تحفة الأشراف: 13379)، موطا امام مالک/الصدقة1 (1) (مرسلاً)، مسند احمد 2/268، 331، 381، 418، 419، 431، 471، 538، 541، سنن الدارمی/الزکاة35 (1717) (صحیح)