سنن النسائي حدیث نمبر: 1686
Sunan an-Nasa'i 1686
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
32: بَابُ : الْوِتْرِ بَعْدَ الأَذَانِ
باب: وتر اذان کے بعد پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عِديٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَعَلُوا يَنْتَظِرُونَهُ , فَجَاءَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُوتِرُ , قَالَ: وَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ , وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى".
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے ، کہ اتنے میں اقامت ہو گئی ، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے ، وہ آئے اور کہا : میں وتر پڑھ رہا تھا ، اور کہا : عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے پوچھا گیا : کیا اذان کے بعد وتر ہے ، تو کہا : ہاں ، اور اقامت کے بعد بھی ہے ، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سوئے رہ گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا ، پھر آپ نے ( اٹھ کر ) نماز پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1686]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 613 (صحیح الإسناد)