سنن النسائي حدیث نمبر: 1549
Sunan an-Nasa'i 1549
کتاب #22: کتاب: نماز خوف کے احکام و مسائل
1: بَابُ :
باب:
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ" فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا , ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الْآخَرُونَ مَكَانَهُمُ الَّذِي كَانُوا فِيهِ , ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فَرَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا , ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ , فَلَمَّا سَجَدُوا وَجَلَسُوا سَجَدَ الْآخَرُونَ مَكَانَهُمْ ثُمَّ سَلَّمَ" , قَالَ جَابِرٌ: كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكُمْ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ کھجور کے باغات میں تھے ، اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی ، تو سبھوں نے تکبیر تحریمہ کہی ، پھر آپ نے رکوع کیا ، تو سبھوں نے رکوع کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس صف نے جو آپ سے قریب تھی سجدہ کیا ، اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے ، پھر جب وہ کھڑے ہو گئے تو دوسروں نے بھی اپنی جگہوں پر جہاں وہ تھے سجدہ کیا ، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آگے آ گئے ۱؎ پھر آپ نے رکوع کیا ، تو سبھوں نے ایک ساتھ رکوع کیا ، پھر آپ نے ( رکوع سے سر ) اٹھایا تو سبھوں نے سر اٹھایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا ، اور اس صف نے جو آپ سے قریب تھی ، اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی پہریداری کرتے رہے ، پھر جب وہ لوگ سجدہ کر چکے اور ( سجدہ کے بعد ) بیٹھ گئے ، تو دوسروں نے بھی اپنی جگہوں میں سجدہ کیا ، پھر آپ نے سلام پھیرا ، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : جس طرح تمہارے امراء کرتے ہیں ، ( یعنی سلام پھیرتے ہیں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1549]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گئے، اور جو لوگ آپ سے قریب تھے ان کی جگہ پر چلے گئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 57 (840)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2759) (صحیح)