سنن النسائي حدیث نمبر: 1542
Sunan an-Nasa'i 1542
کتاب #22: کتاب: نماز خوف کے احکام و مسائل
1: بَابُ :
باب:
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قال: أَنْبَأَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، وَأَبِي أَيُّوب , عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ قَامَ فَكَبَّرَ فَصَلَّى خَلْفَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ انْصَرَفُوا وَلَمْ يُسَلِّمُوا وَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ فَصَفُّوا مَكَانَهُمْ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَتَمَّ رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ فَصَلَّى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ" قَالَ: أَبُو بَكْرِ بْنُ السُّنِّيِّ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثَيْنِ وَلَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی ، تو آپ کھڑے ہوئے ، اور اللہ اکبر کہا ، تو آپ کے پیچھے ہم میں سے ایک گروہ نے نماز پڑھی ، اور ایک گروہ دشمن کے سامنے رہا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے ، پھر وہ لوگ پلٹے حالانکہ انہوں نے ابھی سلام نہیں پھیرا تھا ، اور دشمن کے بالمقابل آ گئے ، اور ان کی جگہ صف بستہ ہو گئے ، اور دوسرا گروہ آیا ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ، اس حال میں کہ آپ نے دو رکوع اور چار سجدے مکمل کر لیے تھے ، پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے ، اور ان میں سے ہر شخص نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے ۔ ابوبکر بن السنی کہتے ہیں : زہری نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے دو حدیثیں سنی ہیں ، لیکن یہ حدیث انہوں نے ان سے نہیں سنی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1542]
💡 وضاحت:
۱؎: زہری کی ملاقات ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے یا نہیں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے صحیح یہ ہے کہ ملاقات نہیں ہے، زہری ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بیٹے سالم کے واسطہ ہی سے ان سے روایت کرتے ہیں، معمر کی جن دو روایتوں کے متعلق آیا ہے کہ اسے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے سنا ہے، یہ صحیح نہیں، کیونکہ معمر کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اسے زہری سے روایت کیا ہے، اس میں زہری اور ابن عمر کے درمیان سالم کا واسطہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (سند میں حسب سابق انقطاع ہے، نیز اس کے راوی ابو ایوب شامی‘ مجہول ہیں، لیکن رقم: 1540 کی سند متصل اور صحیح ہے)