سنن النسائي حدیث نمبر: 1333
Sunan an-Nasa'i 1333
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
77: بَابُ : جَلْسَةِ الإِمَامِ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالاِنْصِرَافِ
باب: سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان امام کی بیٹھک کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ ابْنِ عَازِبٍ، قَالَ: " رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ وَرَكْعَتَهُ وَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ الرَّكْعَةِ , فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ , قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھا ، تو میں نے پایا کہ آپ کا قیام ۱؎ ، آپ کا رکوع ، اور رکوع کے بعد آپ کا سیدھا کھڑا ہونا ، پھر آپ کا سجدہ کرنا ، اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا ، پھر دوسرا سجدہ کرنا ، پھر سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1333]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں «قیام» کا اضافہ ”ہلال بن أبی حمید“ کی روایت میں ہے، ان کے ساتھی ”حکم بن عتیبہ“ کی روایت میں «قیام» کا ذکر نہیں ہے، اور ”حکم“ ”ہلال“ کے مقابلہ زیادہ ثقہ ہیں، اس لیے ان کی روایت محفوظ ہے، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام تو اکثر رکوع، قومہ، جلسہ بین السجدتین وغیرہ سے لمبا ہی ہوا کرتا تھا، بلکہ کبھی کبھی آپ ساٹھ سے سو آیتیں پڑھا کرتے رہے ہیں، اور ظہر کی پہلی رکعت دوسری سے لمبی ہوا کرتی تھی، اس لیے ہلال کی روایت یا تو شاذ ہے، یا کبھی کبھار آپ ایسا کرتے رہے ہوں، اور اسی وقت براء رضی اللہ عنہ نے دیکھا ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1066، (تحفة الأشراف: 1781) (صحیح)