سنن النسائي حدیث نمبر: 1292
Sunan an-Nasa'i 1292
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
52: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: صلاۃ (درود) کی ایک اور قسم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم آپ پر صلاۃ ( درود ) کس طرح بھیجیں ؟ آپ نے فرمایا : ” کہو : «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» ” اے اللہ ! صلاۃ ( درود ) بھیج محمد پر اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر بھیجا ہے ، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے ، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں ، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1292]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1291 (صحیح)