سنن النسائي حدیث نمبر: 1280
Sunan an-Nasa'i 1280
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
43: بَابُ : كَيْفَ التَّشَهُّدُ
باب: تشہد کے طریقہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ وَهُوَ ابْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ السَّلَامُ , فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ , السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْكَلَامِ مَا شَاءَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ عزوجل خود سلام ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( تشہد میں ) بیٹھے تو وہ یوں کہے : «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” تمام قولی ، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اے نبی آپ پر سلام ہو ، اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ہوں ، سلامتی ہو ہم پر ، اور اللہ کے نیک بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ پھر اس کے بعد اسے اختیار ہے جو چاہے دعا کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1280]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1171 (صحیح)