سنن النسائي حدیث نمبر: 1231
Sunan an-Nasa'i 1231
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
22: بَابُ : مَا يَفْعَلُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ نَاسِيًا وَتَكَلَّمَ
باب: آدمی اگر دو رکعت پر ہی بھول کر سلام پھیر دے اور گفتگو کر لے تو کیا کرے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ , فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفَ , فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَمْرٍو: أَنُقِصَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ" , فَقَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ ,
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہم کو ) ظہر یا عصر پڑھائی ، تو آپ نے دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا ، اور اٹھ کر جانے لگے ، تو آپ سے ذوالشمالین بن عمرو نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا : ” ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں ؟ “ لوگوں نے کہا : وہ سچ کہہ رہے ہیں ، اللہ کے نبی ! تو آپ نے ان دو رکعتوں کو جو باقی رہ گئی تھیں لوگوں کے ساتھ پورا کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1231]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14859، 15296) (صحیح الإسناد)