سنن النسائي حدیث نمبر: 1229
Sunan an-Nasa'i 1229
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
22: بَابُ : مَا يَفْعَلُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ نَاسِيًا وَتَكَلَّمَ
باب: آدمی اگر دو رکعت پر ہی بھول کر سلام پھیر دے اور گفتگو کر لے تو کیا کرے؟
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَدْرَكَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنُقِصَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ , فَقَالَ: " لَمْ تُنْقَصِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنْسَ" , قَالَ: بَلَى , وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ , قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ" , قَالُوا: نَعَمْ , فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا ، پھر جانے لگے تو آپ کے پاس ذوالشمالین ۱؎ آئے ، اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” نہ تو نماز کم کی گئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں “ ، اس پر انہوں نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، ان دونوں میں سے ضرور کوئی ایک بات ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا : ” کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں اور پڑھائیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1229]
💡 وضاحت:
۱؎: ذوالشمالین کا نام عمیر بن عبد عمرو اور کنیت ابو محمد ہے، یہ غزوہ بدر میں شہید کر دئیے گئے تھے، اور ذوالیدین کا نام خرباق اور کنیت ابو العریان ہے، ان کی وفات عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی، سہو والے واقعہ میں ذوالشمالین کا ذکر راوی کا وہم ہے، صحیح ذوالیدین ہے، بعض لوگوں نے دونوں کو ایک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14991) (صحیح)